تفسیر سورۃ يوسف 12:31

﴿فَلَمَّا سَمِعَتْ بِمَكْرِهِنَّ أَرْسَلَتْ إِلَيْهِنَّ وَأَعْتَدَتْ لَهُنَّ مُتَّكَأً وَآتَتْ كُلَّ وَاحِدَةٍ مِّنْهُنَّ سِكِّينًا وَقَالَتِ اخْرُجْ عَلَيْهِنَّ فَلَمَّا رَأَيْنَهُ أَكْبَرْنَهُ وَقَطَّعْنَ أَيْدِيَهُنَّ وَقُلْنَ حَاشَ لِلَّهِ مَا هَٰذَا بَشَرًا إِنْ هَٰذَا إِلَّا مَلَكٌ كَرِيمٌ﴾

ترجمۂ معانی

اس نے جب ان کی اس پر فریب غیبت کا حال سنا تو انہیں بلوا بھیجا اور ان کے لئے ایک مجلس مرتب کی اور ان میں سے ہر ایک کو چھری دی۔ اور کہا اے یوسف! ان کے سامنے چلے آؤ، ان عورتوں نے جب اسے دیکھا تو بہت بڑا جانا اور اپنے ہاتھ کاٹ لئے، اور زبان سے نکل گیا کہ حاشاللہ! یہ انسان تو ہرگز نہیں، یہ تو یقیناً کوئی بہت ہی بزرگ فرشتہ ہے.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi — v1.1.3 · QuranEnc.com

دونوں ائمہ کا کلام اصل عربی میں لفظ بلفظ، حوالوں کے ساتھ دیا گیا ہے۔

شیخ الاسلام ابن تیمیہ

وأقول أيضا: إن النسوة لم يكن يقصدن أنه نبي؛ بل ولا أنه من الصالحين إذ ذاك ولم يشهدن له فضلا على غيره من البشر في الصلاح والدين وإنما شهدن بالفضل في الجمال والحسن وسباهن جماله فشبهنه بحال الملائكة«مجموع الفتاوى» 4/387

امام ابن القیم

أي أعظمنه.«مدارج السالكين بين منازل إياك نعبد وإياك نستعين» 3/75
تفاعلی تفسیر میں کھولیں (مکمل متون)
پچھلی آیت (12:29)اگلی آیت (12:32)