تفسیر سورۃ يوسف 12:79

﴿قَالَ مَعَاذَ اللَّهِ أَن نَّأْخُذَ إِلَّا مَن وَجَدْنَا مَتَاعَنَا عِندَهُ إِنَّا إِذًا لَّظَالِمُونَ﴾

ترجمۂ معانی

یوسف (علیہ السلام) نے کہا ہم نے جس کے پاس اپنی چیز پائی ہے اس کے سوا دوسرے کی گرفتاری کرنے سے اللہ کی پناه چاہتے ہیں، ایسا کرنے سے تو ہم یقیناً ناانصافی کرنے والے ہو جائیں گے.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi — v1.1.3 · QuranEnc.com

دونوں ائمہ کا کلام اصل عربی میں لفظ بلفظ، حوالوں کے ساتھ دیا گیا ہے۔

شیخ الاسلام ابن تیمیہ

وكذلك احترز يوسف في قوله: {معاذ الله أن نأخذ إلا من وجدنا متاعنا عنده} [يوسف: 79] ولم يقل إلا من سرق.«الفتاوى الكبرى لابن تيمية» 6/127

امام ابن القیم

ولم يقل إلا من سرق، وهو أخصر لفظا، تحريا للصدق، فإن الأخ لم يكن سارقا بوجه، وكان المتاع عنده حقا؛ فالكلام من أحسن المعاريض وأصدقها.«إعلام الموقعين عن رب العالمين» 3/169
تفاعلی تفسیر میں کھولیں (مکمل متون)
پچھلی آیت (12:77)اگلی آیت (12:80)