تفسیر سورۃ البقرة 2:20

﴿يَكَادُ الْبَرْقُ يَخْطَفُ أَبْصَارَهُمْ كُلَّمَا أَضَاءَ لَهُم مَّشَوْا فِيهِ وَإِذَا أَظْلَمَ عَلَيْهِمْ قَامُوا وَلَوْ شَاءَ اللَّهُ لَذَهَبَ بِسَمْعِهِمْ وَأَبْصَارِهِمْ إِنَّ اللَّهَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ﴾

ترجمۂ معانی

قریب ہے کہ بجلی ان کی آنکھیں اُچک لے جائے، جب ان کے لئے روشنی کرتی ہے تو اس میں چلتے پھرتے ہیں اور جب ان پر اندھیرا کرتی ہے تو کھڑے ہوجاتے ہیں اور اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو ان کے کانوں اور آنکھوں کو بیکار کردے۔ یقیناً اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قدرت رکھنے واﻻ ہے

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi — v1.1.3 · QuranEnc.com

دونوں ائمہ کا کلام اصل عربی میں لفظ بلفظ، حوالوں کے ساتھ دیا گیا ہے۔

شیخ الاسلام ابن تیمیہ

فلهم " حالان ": حال ضياء وحال ظلام والأولون بقوا في الظلمة. فالأول حال من كان في ضوء فصار في ظلمة والثاني حال من لم يستقر لا في ضوء ولا في ظلمة بل تختلف عليه الأحوال التي توجب مقامه واسترابته.«مجموع الفتاوى» 7/277

امام ابن القیم

ضعفت أبصار بصائرهم عن احتمال ما في الصيب من بروق أنواره وضياء معانيه، وعجزت أسماعهم عن تلقي رعود وعوده وأوامره ونواهيه، فقاموا عند ذلك حيارى في أودية التيه،«مدارج السالكين بين منازل إياك نعبد وإياك نستعين» 1/358
تفاعلی تفسیر میں کھولیں (مکمل متون)
پچھلی آیت (2:19)اگلی آیت (2:21)