تفسیر سورۃ الحج 22:30
﴿ذَٰلِكَ وَمَن يُعَظِّمْ حُرُمَاتِ اللَّهِ فَهُوَ خَيْرٌ لَّهُ عِندَ رَبِّهِ وَأُحِلَّتْ لَكُمُ الْأَنْعَامُ إِلَّا مَا يُتْلَىٰ عَلَيْكُمْ فَاجْتَنِبُوا الرِّجْسَ مِنَ الْأَوْثَانِ وَاجْتَنِبُوا قَوْلَ الزُّورِ﴾
ترجمۂ معانی
یہ ہے اور جو کوئی اللہ کی حرمتوں کی تعظیم کرے اس کے اپنے لئے اس کے رب کے پاس بہتری ہے۔ اور تمہارے لئے چوپائے جانور حلال کر دیئے گئے بجز ان کے جو تمہارے سامنے بیان کیے گئے ہیں پس تمہیں بتوں کی گندگی سے بچتے رہنا چاہئے اور جھوٹی بات سے بھی پرہیز کرنا چاہئے.
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi — v1.1.3 · QuranEnc.comدونوں ائمہ کا کلام اصل عربی میں لفظ بلفظ، حوالوں کے ساتھ دیا گیا ہے۔
شیخ الاسلام ابن تیمیہ
وبالجملة لفظ "الرجس" أصله القذر، ويراد به الشرك، كقوله: { فاجتنبوا الرجس من الأوثان } [الحج: 30].«الإمامة في ضوء الكتاب والسنة» 1/78وهذا يعم كل قول زور بأي لفظ كان وعلى أي صفة وجد فلا يقوله العبد ولا يحضره ولا يسمعه من قول غيره.«مجموع الفتاوى» 14/169و " الزور " هو الباطل الذي قد ازور عن الحق والاستقامة أي تحول«مجموع الفتاوى» 14/169