تفسیر سورۃ الزمر 39:8

﴿وَإِذَا مَسَّ الْإِنسَانَ ضُرٌّ دَعَا رَبَّهُ مُنِيبًا إِلَيْهِ ثُمَّ إِذَا خَوَّلَهُ نِعْمَةً مِّنْهُ نَسِيَ مَا كَانَ يَدْعُو إِلَيْهِ مِن قَبْلُ وَجَعَلَ لِلَّهِ أَندَادًا لِّيُضِلَّ عَن سَبِيلِهِ قُلْ تَمَتَّعْ بِكُفْرِكَ قَلِيلًا إِنَّكَ مِنْ أَصْحَابِ النَّارِ﴾

ترجمۂ معانی

اور انسان کو جب کبھی کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو وه خوب رجوع ہو کر اپنے رب کو پکارتا ہے، پھر جب اللہ تعالیٰ اسے اپنے پاس سے نعمت عطا فرمادیتا ہے تو وه اس سے پہلے جو دعا کرتا تھا اسے (بالکل) بھول جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے شریک مقرر کرنے لگتا ہے جس سے (اوروں کو بھی) اس کی راه سے بہکائے، آپ کہہ دیجئے! کہ اپنے کفر کا فائده کچھ دن اور اٹھالو، (آخر) تو دوزخیوں میں ہونے واﻻ ہے.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi — v1.1.3 · QuranEnc.com

دونوں ائمہ کا کلام اصل عربی میں لفظ بلفظ، حوالوں کے ساتھ دیا گیا ہے۔

شیخ الاسلام ابن تیمیہ

وقوله {نسي ما كان يدعو إليه} أي نسي الضر الذي كان يدعو الله لدفعه عنه«مجموع الفتاوى» 14/370
وإذا كانت ما مصدرية كان تقديره نسي كونه يدعو الله إلى حاجته.«مجموع الفتاوى» 22/386
تفاعلی تفسیر میں کھولیں (مکمل متون)
پچھلی آیت (39:7)اگلی آیت (39:18)