تفسیر سورۃ الفتح 48:11

﴿سَيَقُولُ لَكَ الْمُخَلَّفُونَ مِنَ الْأَعْرَابِ شَغَلَتْنَا أَمْوَالُنَا وَأَهْلُونَا فَاسْتَغْفِرْ لَنَا يَقُولُونَ بِأَلْسِنَتِهِم مَّا لَيْسَ فِي قُلُوبِهِمْ قُلْ فَمَن يَمْلِكُ لَكُم مِّنَ اللَّهِ شَيْئًا إِنْ أَرَادَ بِكُمْ ضَرًّا أَوْ أَرَادَ بِكُمْ نَفْعًا بَلْ كَانَ اللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرًا﴾

ترجمۂ معانی

دیہاتیوں میں سے جو لوگ پیچھے چھوڑ دیئے گئے تھے وه اب تجھ سے کہیں گے کہ ہم اپنے مال اور بال بچوں میں لگے ره گئے پس آپ ہمارے لئے مغفرت طلب کیجئے ۔ یہ لوگ اپنی زبانوں سے وه کہتے ہیں جو ان کے دلوں میں نہیں ہے۔ آپ جواب دے دیجئے کہ تمہارے لئے اللہ کی طرف سے کسی چیز کا بھی اختیار کون رکھتا ہے اگر وه تمہیں نقصان پہنچانا چاہے تو یا تمہیں کوئی نفع دینا چاہے تو، بلکہ تم جو کچھ کر رہے ہو اس سے اللہ خوب باخبر ہے.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi — v1.1.3 · QuranEnc.com

دونوں ائمہ کا کلام اصل عربی میں لفظ بلفظ، حوالوں کے ساتھ دیا گیا ہے۔

شیخ الاسلام ابن تیمیہ

أي ادع الله أن يغفر لنا تخلفنا عنك«مجموع الفتاوى» 7/250
أي ما يبالون استغفرت لهم أم لم تستغفر لهم وهذا حال الفاسق الذي لا يبالي بالذنب«مجموع الفتاوى» 7/250
بل الآية دليل على أنهم لو صدقوا في طلب الاستغفار نفعهم استغفار الرسول لهم«مجموع الفتاوى» 7/250

جو انہوں نے دوسروں سے نقل کیا

ابن إسحاق أقرّه «{لما أراد رسول الله صلى الله عليه وسلم العمرة - عمرة الحديبية - استنفر من حول المدينة من أهل البوادي والأعراب ليخرجوا معه خوفا من قومه أن يعرضوا له بحرب أو بصد فتثاقل عنه كثير منهم}»«مجموع الفتاوى» 7/250
تفاعلی تفسیر میں کھولیں (مکمل متون)
پچھلی آیت (48:10)اگلی آیت (48:15)