تفسیر سورۃ الأنعام 6:136
﴿وَجَعَلُوا لِلَّهِ مِمَّا ذَرَأَ مِنَ الْحَرْثِ وَالْأَنْعَامِ نَصِيبًا فَقَالُوا هَٰذَا لِلَّهِ بِزَعْمِهِمْ وَهَٰذَا لِشُرَكَائِنَا فَمَا كَانَ لِشُرَكَائِهِمْ فَلَا يَصِلُ إِلَى اللَّهِ وَمَا كَانَ لِلَّهِ فَهُوَ يَصِلُ إِلَىٰ شُرَكَائِهِمْ سَاءَ مَا يَحْكُمُونَ﴾
ترجمۂ معانی
اور اللہ تعالیٰ نے جو کھیتی اور مواشی پیدا کیے ہیں ان لوگوں نے ان میں سے کچھ حصہ اللہ کا مقرر کیا اور بزعم خود کہتے ہیں کہ یہ تو اللہ کا ہے اور یہ ہمارے معبودوں کا ہے ، پھر جو چیز ان کے معبودوں کی ہوتی ہے وه تو اللہ کی طرف نہیں پہنچتی اور جو چیز اللہ کی ہوتی ہے وه ان کے معبودوں کی طرف پہنچ جاتی ہے کیا برا فیصلہ وه کرتے ہیں۔
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi — v1.1.3 · QuranEnc.comدونوں ائمہ کا کلام اصل عربی میں لفظ بلفظ، حوالوں کے ساتھ دیا گیا ہے۔
امام ابن القیم
وأما الجعل فقد أطلق على الله سبحانه بمعنيين أحدهما: الإيجاد والخلق والثاني: التصيير«شفاء العليل في مسائل القضاء والقدر والحكمة والتعليل» 1/133وأطلق على العبد بالمعنى الثاني خاصة كقوله: {وجعلوا لله مما ذرأ من الحرث والأنعام نصيبا}«شفاء العليل في مسائل القضاء والقدر والحكمة والتعليل» 1/133جو انہوں نے دوسروں سے نقل کیا
القوم حكاه «كنا نزرع الزرع فنجعل له وسطه، فنسميه له، ونسمي زرعا آخر حجرة لله، فإذا مالت الريح فالذي سميناه لله جعلناه لعم أنس، وإذا مالت الريح فالذي جعلناه لعم أنس، لم نجعله لله،»«زاد المعاد في هدي خير العباد» 3/579