تفسیر سورۃ الأنفال 8:48

﴿وَإِذْ زَيَّنَ لَهُمُ الشَّيْطَانُ أَعْمَالَهُمْ وَقَالَ لَا غَالِبَ لَكُمُ الْيَوْمَ مِنَ النَّاسِ وَإِنِّي جَارٌ لَّكُمْ فَلَمَّا تَرَاءَتِ الْفِئَتَانِ نَكَصَ عَلَىٰ عَقِبَيْهِ وَقَالَ إِنِّي بَرِيءٌ مِّنكُمْ إِنِّي أَرَىٰ مَا لَا تَرَوْنَ إِنِّي أَخَافُ اللَّهَ وَاللَّهُ شَدِيدُ الْعِقَابِ﴾

ترجمۂ معانی

جبکہ ان کے اعمال کو شیطان انہیں زینت دار دکھا رہا تھا اور کہہ رہا تھا کہ لوگوں میں سے کوئی بھی آج تم پر غالب نہیں آسکتا، میں خود بھی تمہارا حمایتی ہوں لیکن جب دونوں جماعتیں نمودار ہوئیں تو اپنی ایڑیوں کے بل پیچھے ہٹ گیا اور کہنے لگا میں تم سے بری ہوں۔ میں وه دیکھ رہا ہوں جو تم نہیں دیکھ رہے ۔ میں اللہ سے ڈرتا ہوں، اور اللہ تعالیٰ سخت عذاب واﻻ ہے۔

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi — v1.1.3 · QuranEnc.com

دونوں ائمہ کا کلام اصل عربی میں لفظ بلفظ، حوالوں کے ساتھ دیا گیا ہے۔

شیخ الاسلام ابن تیمیہ

فأخبر عن الشيطان أنه يخاف الله«مجموع الفتاوى» 4/235

امام ابن القیم

جو انہوں نے دوسروں سے نقل کیا

قتادة وابن إسحاق حكاه «صدق عدو الله فى قوله {إني أرى ما لا ترون} [الأنفال: 48] وكذب فى قوله {إني أخاف الله} [الأنفال: 48] والله ما به مخافة الله، ولكن علم أنه لا قوة له ولا منعة فأوردهم وأسلمهم. وكذلك عادة عدو الله بمن أطاعه»«إغاثة اللهفان من مصايد الشيطان» 1/109
تفاعلی تفسیر میں کھولیں (مکمل متون)
پچھلی آیت (8:46)اگلی آیت (8:49)