تفسیر سورۃ التوبة 9:111

﴿إِنَّ اللَّهَ اشْتَرَىٰ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ أَنفُسَهُمْ وَأَمْوَالَهُم بِأَنَّ لَهُمُ الْجَنَّةَ يُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَيَقْتُلُونَ وَيُقْتَلُونَ وَعْدًا عَلَيْهِ حَقًّا فِي التَّوْرَاةِ وَالْإِنجِيلِ وَالْقُرْآنِ وَمَنْ أَوْفَىٰ بِعَهْدِهِ مِنَ اللَّهِ فَاسْتَبْشِرُوا بِبَيْعِكُمُ الَّذِي بَايَعْتُم بِهِ وَذَٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ﴾

ترجمۂ معانی

بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں سے ان کی جانوں کو اور ان کے مالوں کو اس بات کے عوض میں خرید لیا ہے کہ ان کو جنت ملے گی ۔ وه لوگ اللہ کی راه میں لڑتے ہیں جس میں قتل کرتے ہیں اور قتل کیے جاتے ہیں، اس پر سچا وعده کیا گیا ہے تورات میں اور انجیل میں اور قرآن میں اور اللہ سے زیاده اپنے عہد کو کون پورا کرنے واﻻ ہے، تو تم لوگ اپنی اس بیع پر جس کا تم نے معاملہ ٹھہرایا ہے خوشی مناؤ،اور یہی بہت بڑی کامیابی ہے۔

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi — v1.1.3 · QuranEnc.com

دونوں ائمہ کا کلام اصل عربی میں لفظ بلفظ، حوالوں کے ساتھ دیا گیا ہے۔

شیخ الاسلام ابن تیمیہ

و " التحقيق " أن الجنة هي الدار الجامعة لكل نعيم وأعلى ما فيها النظر إلى وجه الله وهو من النعيم الذي ينالونه في الجنة؛ كما أخبرت به النصوص.«مجموع الفتاوى» 10/63
والواجب أن يعلم أن كل ما أعده الله للأولياء من نعيم بالنظر إليه وما سوى ذلك هو في الجنة كما أن كل ما وعد به أعداءه هو في النار.«مجموع الفتاوى» 10/700

امام ابن القیم

فكان تقديم الأنفس هو الأولى لأنها هي المشتراة في الحقيقة وهي مورد العقد وهي السلعة التي استلمها ربها وطلب شراءها لنفسه وجعل ثمن هذا العقد رضاه وجنته«بدائع الفوائد» 1/78
والأموال تبع لها فإذا ملكها مشتريها ملك مالها«بدائع الفوائد» 1/78
تفاعلی تفسیر میں کھولیں (مکمل متون)
پچھلی آیت (9:110)اگلی آیت (9:112)