تفسیر سورۃ العنكبوت 29:31
﴿وَلَمَّا جَاءَتْ رُسُلُنَا إِبْرَاهِيمَ بِالْبُشْرَىٰ قَالُوا إِنَّا مُهْلِكُو أَهْلِ هَٰذِهِ الْقَرْيَةِ إِنَّ أَهْلَهَا كَانُوا ظَالِمِينَ﴾
ترجمۂ معانی
اور جب ہمارے بھیجے ہوئے فرشتے ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس بشارت لے کر پہنچے کہنے لگے کہ اس بستی والوں کو ہم ہلاک کرنے والے ہیں ، یقیناً یہاں کے رہنے والے گنہگار ہیں.
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi — v1.1.3 · QuranEnc.comدونوں ائمہ کا کلام اصل عربی میں لفظ بلفظ، حوالوں کے ساتھ دیا گیا ہے۔
شیخ الاسلام ابن تیمیہ
فهذه الآيات: تقتضي أن الهلاك استحالة وفساد في الشيء الموجود كما سنبينه لا أنه يعني أنه ليس وجوده من نفسه إذ جميع المخلوقات تشترك في هذا.«مجموع الفتاوى» 2/29