تفسیر سورۃ الأحزاب 33:13

﴿وَإِذْ قَالَت طَّائِفَةٌ مِّنْهُمْ يَا أَهْلَ يَثْرِبَ لَا مُقَامَ لَكُمْ فَارْجِعُوا وَيَسْتَأْذِنُ فَرِيقٌ مِّنْهُمُ النَّبِيَّ يَقُولُونَ إِنَّ بُيُوتَنَا عَوْرَةٌ وَمَا هِيَ بِعَوْرَةٍ إِن يُرِيدُونَ إِلَّا فِرَارًا﴾

ترجمۂ معانی

ان ہی کی ایک جماعت نے ہانک لگائی کہ اے مدینہ والو ! تمہارے لئے ٹھکانہ نہیں چلو لوٹ چلو، اور ان کی ایک اور جماعت یہ کہہ کر نبی ﴿صلی اللہ علیہ وسلم﴾ سے اجازت مانگنے لگی کہ ہمارے گھر غیر محفوظ ہیں، حاﻻنکہ وه (کھلے ہوئے اور) غیر محفوظ نہ تھے (لیکن) ان کا پختہ اراده بھاگ کھڑے ہونے کا تھا.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi — v1.1.3 · QuranEnc.com

دونوں ائمہ کا کلام اصل عربی میں لفظ بلفظ، حوالوں کے ساتھ دیا گیا ہے۔

شیخ الاسلام ابن تیمیہ

أي مكشوفة ليس بينها وبين العدو حائل.«مجموع الفتاوى» 28/451
وأصل العورة: الخالي الذي يحتاج إلى حفظ وستر.«مجموع الفتاوى» 28/451

جو انہوں نے دوسروں سے نقل کیا

مجاهد والحسن حكاه «أي ضائعة تخشى عليها السراق.»«مجموع الفتاوى» 28/451
تفاعلی تفسیر میں کھولیں (مکمل متون)
پچھلی آیت (33:10)اگلی آیت (33:14)