تفسیر سورۃ الأحزاب 33:37

﴿وَإِذْ تَقُولُ لِلَّذِي أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِ وَأَنْعَمْتَ عَلَيْهِ أَمْسِكْ عَلَيْكَ زَوْجَكَ وَاتَّقِ اللَّهَ وَتُخْفِي فِي نَفْسِكَ مَا اللَّهُ مُبْدِيهِ وَتَخْشَى النَّاسَ وَاللَّهُ أَحَقُّ أَن تَخْشَاهُ فَلَمَّا قَضَىٰ زَيْدٌ مِّنْهَا وَطَرًا زَوَّجْنَاكَهَا لِكَيْ لَا يَكُونَ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ حَرَجٌ فِي أَزْوَاجِ أَدْعِيَائِهِمْ إِذَا قَضَوْا مِنْهُنَّ وَطَرًا وَكَانَ أَمْرُ اللَّهِ مَفْعُولًا﴾

ترجمۂ معانی

(یاد کرو) جب کہ تو اس شخص سے کہہ رہا تھا جس پر اللہ نے بھی انعام کیا اور تو نے بھی کہ تو اپنی بیوی کو اپنے پاس رکھ اور اللہ سے ڈر اور تو اپنے دل میں وه بات چھپائے ہوئے تھا جسے اللہ ﻇاہر کرنے واﻻ تھا اور تو لوگوں سے خوف کھاتا تھا، حاﻻنکہ اللہ تعالیٰ اس کا زیاده حق دار تھا کہ تو اس سے ڈرے ، پس جب کہ زید نے اس عورت سے اپنی غرض پوری کرلی ہم نے اسے تیرے نکاح میں دے دیا تاکہ مسلمانوں پر اپنے لے پالکوں کی بیویوں کے بارے میں کسی طرح کی تنگی نہ رہے جب کہ وه اپنی غرض ان سے پوری کرلیں، اللہ کا (یہ) حکم تو ہو کر ہی رہنے واﻻ تھا.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi — v1.1.3 · QuranEnc.com

دونوں ائمہ کا کلام اصل عربی میں لفظ بلفظ، حوالوں کے ساتھ دیا گیا ہے۔

شیخ الاسلام ابن تیمیہ

فبين أن سبب الولاء هو الإنعام بالإعتاق كما أن سبب النسب هو الإنعام بالإيلاد.«مجموع الفتاوى» 29/165
وتستعمل في استدامة النكاح: كقوله تعالى: {وإذ تقول للذي أنعم الله عليه وأنعمت عليه أمسك عليك زوجك} ولم يكن هناك طلاق«مجموع الفتاوى» 33/100

جو انہوں نے دوسروں سے نقل کیا

عائشة رضي الله عنها استشهد به «وهذا كما قالت عائشة رضي الله عنها لو كان محمد كاتما شيئا من الوحي لكتم هذه الآية: {وتخفي في نفسك ما الله مبديه وتخشى الناس والله أحق أن تخشاه}»«مجموع الفتاوى» 10/292
تفاعلی تفسیر میں کھولیں (مکمل متون)
پچھلی آیت (33:36)اگلی آیت (33:38)