تفسیر سورۃ الأحزاب 33:5

﴿ادْعُوهُمْ لِآبَائِهِمْ هُوَ أَقْسَطُ عِندَ اللَّهِ فَإِن لَّمْ تَعْلَمُوا آبَاءَهُمْ فَإِخْوَانُكُمْ فِي الدِّينِ وَمَوَالِيكُمْ وَلَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ فِيمَا أَخْطَأْتُم بِهِ وَلَٰكِن مَّا تَعَمَّدَتْ قُلُوبُكُمْ وَكَانَ اللَّهُ غَفُورًا رَّحِيمًا﴾

ترجمۂ معانی

لے پالکوں کو ان کے (حقیقی) باپوں کی طرف نسبت کر کے بلاؤ اللہ کے نزدیک پورا انصاف یہی ہے۔ پھر اگر تمہیں ان کے (حقیقی) باپوں کا علم ہی نہ ہو تو وه تمہارے دینی بھائی اور دوست ہیں، تم سے بھول چوک میں جو کچھ ہو جائے اس میں تم پر کوئی گناه نہیں، البتہ گناه وه ہے جس کا تم اراده دل سے کرو۔ اللہ تعالیٰ بڑا ہی بخشنے واﻻ مہربان ہے.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi — v1.1.3 · QuranEnc.com

دونوں ائمہ کا کلام اصل عربی میں لفظ بلفظ، حوالوں کے ساتھ دیا گیا ہے۔

شیخ الاسلام ابن تیمیہ

فأوجب علينا الدعاء لأبيه الذي ولده دون الذي تبناه وحرم التبني، ثم أمر عند عدم العلم بالأب بأن يدعي أخا في الدين ومولى«الفتاوى الكبرى لابن تيمية» 4/98

امام ابن القیم

جو انہوں نے دوسروں سے نقل کیا

عائشة وأم سلمة استشهد به «فردوا إلى آبائهم، فمن لم يعلم له أب كان مولى وأخا في الدين»«زاد المعاد في هدي خير العباد» 5/494
تفاعلی تفسیر میں کھولیں (مکمل متون)
پچھلی آیت (33:4)اگلی آیت (33:6)