تفسیر سورۃ الأنعام 6:148

﴿سَيَقُولُ الَّذِينَ أَشْرَكُوا لَوْ شَاءَ اللَّهُ مَا أَشْرَكْنَا وَلَا آبَاؤُنَا وَلَا حَرَّمْنَا مِن شَيْءٍ كَذَٰلِكَ كَذَّبَ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ حَتَّىٰ ذَاقُوا بَأْسَنَا قُلْ هَلْ عِندَكُم مِّنْ عِلْمٍ فَتُخْرِجُوهُ لَنَا إِن تَتَّبِعُونَ إِلَّا الظَّنَّ وَإِنْ أَنتُمْ إِلَّا تَخْرُصُونَ﴾

ترجمۂ معانی

یہ مشرکین (یوں) کہیں گے کہ اگر اللہ تعالیٰ کو منظور ہوتا تو نہ ہم شرک کرتے اور نہ ہمارے باپ دادا اور نہ ہم کسی چیز کو حرام کہہ سکتے ۔ اسی طرح جو لوگ ان سے پہلے ہوچکے ہیں انہوں نے بھی تکذیب کی تھی یہاں تک کہ انہوں نے ہمارے عذاب کامزه چکھا۔ آپ کہیے کہ کیا تمہارے پاس کوئی دلیل ہے تو اس کو ہمارے روبرو ﻇاہر کرو۔ تم لوگ محض خیالی باتوں پر چلتے ہو اور تم بالکل اٹکل سے باتیں بناتے ہو۔

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi — v1.1.3 · QuranEnc.com

دونوں ائمہ کا کلام اصل عربی میں لفظ بلفظ، حوالوں کے ساتھ دیا گیا ہے۔

شیخ الاسلام ابن تیمیہ

ومن ظن أن " القدر " حجة لأهل الذنوب فهو من جنس المشركين الذين قال الله تعالى عنهم: {سيقول الذين أشركوا لو شاء الله ما أشركنا ولا آباؤنا ولا حرمنا من شيء}«مجموع الفتاوى» 11/257

امام ابن القیم

فهم استدلوا على محبته لشركهم ورضاه عنه بمشيئته لذلك. وعارضوا بهذا الدليل أمره ونهيه.«مدارج السالكين بين منازل إياك نعبد وإياك نستعين» 2/188
فالإشكال إنما نشأ من جعلهم المشيئة نفس المحبة.«مدارج السالكين بين منازل إياك نعبد وإياك نستعين» 2/188
فهذه أربعة مواضع فى القرآن بين سبحانه فيها أن الاحتجاج بالقدر من فعل المشركين المكذبين للرسل.«طريق الهجرتين وباب السعادتين» 1/87
تفاعلی تفسیر میں کھولیں (مکمل متون)
پچھلی آیت (6:146)اگلی آیت (6:149)