تفسیر سورۃ الأنعام 6:157
﴿أَوْ تَقُولُوا لَوْ أَنَّا أُنزِلَ عَلَيْنَا الْكِتَابُ لَكُنَّا أَهْدَىٰ مِنْهُمْ فَقَدْ جَاءَكُم بَيِّنَةٌ مِّن رَّبِّكُمْ وَهُدًى وَرَحْمَةٌ فَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّن كَذَّبَ بِآيَاتِ اللَّهِ وَصَدَفَ عَنْهَا سَنَجْزِي الَّذِينَ يَصْدِفُونَ عَنْ آيَاتِنَا سُوءَ الْعَذَابِ بِمَا كَانُوا يَصْدِفُونَ﴾
ترجمۂ معانی
یا یوں نہ کہو کہ اگر ہم پر کوئی کتاب نازل ہوتی تو ہم ان سے بھی زیاده راه راست پر ہوتے۔ سو اب تمہارے پاس تمہارے رب کے پاس سے ایک کتاب واضح اور رہنمائی کا ذریعہ اور رحمت آچکی ہے ۔ اب اس شخص سے زیاده ﻇالم کون ہوگا جو ہماری ان آیتوں کو جھوٹا بتائے اور اس سے روکے۔ ہم جلد ہی ان لوگوں کو جو کہ ہماری آیتوں سے روکتے ہیں ان کے اس روکنے کے سبب سخت سزا دیں گے۔
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi — v1.1.3 · QuranEnc.comدونوں ائمہ کا کلام اصل عربی میں لفظ بلفظ، حوالوں کے ساتھ دیا گیا ہے۔
شیخ الاسلام ابن تیمیہ
فذكر سبحانه أنه سيجزي الصادف عن آياته مطلقا - سواء كان مكذبا أو لم يكن - سوء العذاب بما كانوا يصدفون: يبين ذلك أن كل من لم يقر بما جاء به الرسول فهو كافر«مجموع الفتاوى» 3/315وقد يكون كافرا من لا يكذبه إذا لم يؤمن به.«مجموع الفتاوى» 3/315امام ابن القیم
وهذا في القرآن كثير، يخبر أن الحجة إنما قامت عليهم بكتابه ورسوله، كما نبههم بما في عقولهم وفطرهم: من حسن التوحيد والشكر، وقبح الشرك والكفر.«مدارج السالكين بين منازل إياك نعبد وإياك نستعين» 3/454