تفسیر سورۃ الأعراف 7:155
﴿وَاخْتَارَ مُوسَىٰ قَوْمَهُ سَبْعِينَ رَجُلًا لِّمِيقَاتِنَا فَلَمَّا أَخَذَتْهُمُ الرَّجْفَةُ قَالَ رَبِّ لَوْ شِئْتَ أَهْلَكْتَهُم مِّن قَبْلُ وَإِيَّايَ أَتُهْلِكُنَا بِمَا فَعَلَ السُّفَهَاءُ مِنَّا إِنْ هِيَ إِلَّا فِتْنَتُكَ تُضِلُّ بِهَا مَن تَشَاءُ وَتَهْدِي مَن تَشَاءُ أَنتَ وَلِيُّنَا فَاغْفِرْ لَنَا وَارْحَمْنَا وَأَنتَ خَيْرُ الْغَافِرِينَ﴾
ترجمۂ معانی
اور موسیٰ (علیہ السلام) نے ستر آدمی اپنی قوم میں سے ہمارے وقت معین کے لیے منتخب کئے، سو جب ان کو زلزلہ نے آپکڑا تو موسیٰ (علیہ السلام) عرض کرنے لگے کہ اے میرے پروردگار! اگر تجھ کو یہ منظور ہوتا تو اس سے قبل ہی ان کو اور مجھ کو ہلاک کر دیتا۔ کیا تو ہم میں سے چند بے وقوفوں کی حرکت پر سب کو ہلاک کردے گا؟ یہ واقعہ محض تیری طرف سے ایک امتحان ہے، ایسے امتحانات سے جس کو تو چاہے گمراہی میں ڈال دے اور جس کو چاہے ہدایت پر قائم رکھے۔ تو ہی تو ہمارا کارساز ہے پس ہم پر مغفرت اور رحمت فرما اور تو سب معافی دینے والوں سے زیاده اچھا ہے۔
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi — v1.1.3 · QuranEnc.comدونوں ائمہ کا کلام اصل عربی میں لفظ بلفظ، حوالوں کے ساتھ دیا گیا ہے۔
شیخ الاسلام ابن تیمیہ
والإختيار في لغة القرآن يراد به التفضيل والإنتقاء والإصطفاء«رسالة في معنى كون الرب عادلا» 1/137أي محنتك واختبارك وابتلاؤك كما ابتليت عبادك بالحسنات والسيئات ليتبين الصبار الشكور من غيره وابتليتهم بإرسال الرسل وإنزال الكتب ليتبين المؤمن من الكافر والصادق من الكاذب والمنافق من المخلص فتجعل ذلك سببا لضلالة قوم وهدي آخرين.«مجموع الفتاوى» 7/182امام ابن القیم
أي اختار منهم«شفاء العليل في مسائل القضاء والقدر والحكمة والتعليل» 1/32لتضمن الفعل معنى فعل غير متعد كأنه نخل قومه وميزهم وسبرهم ونحو ذلك فمن هاهنا والله أعلم أسقط حرف الجر«بدائع الفوائد» 2/56