تفسیر سورۃ يوسف 12:100

﴿وَرَفَعَ أَبَوَيْهِ عَلَى الْعَرْشِ وَخَرُّوا لَهُ سُجَّدًا وَقَالَ يَا أَبَتِ هَٰذَا تَأْوِيلُ رُؤْيَايَ مِن قَبْلُ قَدْ جَعَلَهَا رَبِّي حَقًّا وَقَدْ أَحْسَنَ بِي إِذْ أَخْرَجَنِي مِنَ السِّجْنِ وَجَاءَ بِكُم مِّنَ الْبَدْوِ مِن بَعْدِ أَن نَّزَغَ الشَّيْطَانُ بَيْنِي وَبَيْنَ إِخْوَتِي إِنَّ رَبِّي لَطِيفٌ لِّمَا يَشَاءُ إِنَّهُ هُوَ الْعَلِيمُ الْحَكِيمُ﴾

ترجمۂ معانی

اور اپنے تخت پر اپنے ماں باپ کو اونچا بٹھایا اور سب اس کے سامنے سجدے میں گر گئے۔ تب کہا کہ اباجی! یہ میرے پہلے کے خواب کی تعبیر ہے میرے رب نے اسے سچا کر دکھایا، اس نے میرے ساتھ بڑا احسان کیا جب کہ مجھے جیل خانے سے نکالا اور آپ لوگوں کو صحرا سے لے آیا اس اختلاف کے بعد جو شیطان نے مجھ میں اور میرے بھائیوں میں ڈال دیا تھا۔ میرا رب جو چاہے اس کے لئے بہترین تدبیر کرنے واﻻ ہے۔ اور وه بہت علم وحکمت واﻻ ہے.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi — v1.1.3 · QuranEnc.com

دونوں ائمہ کا کلام اصل عربی میں لفظ بلفظ، حوالوں کے ساتھ دیا گیا ہے۔

شیخ الاسلام ابن تیمیہ

والمعنى الثالث أن التأويل هو الحقيقة التي يؤول الكلام إليها - وإن وافقت ظاهره -«مجموع الفتاوى» 5/36

امام ابن القیم

ولم يقل: أخرجني من الجب، حفظا للأدب مع إخوته. وتفتيا عليهم: أن لا يخجلهم بما جرى في الجب.«مدارج السالكين بين منازل إياك نعبد وإياك نستعين» 2/360
وقال {وجاء بكم من البدو} [يوسف: 100] ولم يقل: رفع عنكم جهد الجوع والحاجة. أدبا معهم.«مدارج السالكين بين منازل إياك نعبد وإياك نستعين» 2/360
وأضاف ما جرى إلى السبب. ولم يضفه إلى المباشر الذي هو أقرب إليه منه. فقال: {من بعد أن نزغ الشيطان بيني وبين إخوتي} [يوسف: 100] فأعطى الفتوة والكرم والأدب حقه.«مدارج السالكين بين منازل إياك نعبد وإياك نستعين» 2/360
تفاعلی تفسیر میں کھولیں (مکمل متون)
پچھلی آیت (12:99)اگلی آیت (12:106)