تفسیر سورۃ الأنعام 6:145

﴿قُل لَّا أَجِدُ فِي مَا أُوحِيَ إِلَيَّ مُحَرَّمًا عَلَىٰ طَاعِمٍ يَطْعَمُهُ إِلَّا أَن يَكُونَ مَيْتَةً أَوْ دَمًا مَّسْفُوحًا أَوْ لَحْمَ خِنزِيرٍ فَإِنَّهُ رِجْسٌ أَوْ فِسْقًا أُهِلَّ لِغَيْرِ اللَّهِ بِهِ فَمَنِ اضْطُرَّ غَيْرَ بَاغٍ وَلَا عَادٍ فَإِنَّ رَبَّكَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ﴾

ترجمۂ معانی

آپ کہہ دیجئے کہ جو کچھ احکام بذریعہ وحی میرے پاس آئے ان میں تو میں کوئی حرام نہیں پاتا کسی کھانے والے کے لئے جو اس کو کھائے، مگر یہ کہ وه مردار ہو یا کہ بہتا ہوا خون ہو یا خنزیر کا گوشت ہو، کیونکہ وه بالکل ناپاک ہے یا جو شرک کا ذریعہ ہو کہ غیراللہ کے لئے نامزد کردیا گیا ہو ۔ پھر جو شخص مجبور ہوجائے بشرطیکہ نہ تو طالب لذت ہو اور نہ تجاوز کرنے واﻻ ہو تو واقعی آپ کا رب غفور و رحیم ہے۔

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi — v1.1.3 · QuranEnc.com

دونوں ائمہ کا کلام اصل عربی میں لفظ بلفظ، حوالوں کے ساتھ دیا گیا ہے۔

شیخ الاسلام ابن تیمیہ

علم أنه - سبحانه - فرق بين الدم الذي يسيل وبين غيره«مجموع الفتاوى» 21/100
فما لم يجد تحريمه ليس بمحرم وما لم يحرم فهو حل«مجموع الفتاوى» 21/537

امام ابن القیم

فالضمير في قوله (فإنه) وإن كان عوده إلى الثلاثة المذكورة باعتبار لفظ المحرم، فإنه يترجح اختصاص لحم الخنزير به لثلاثة أوجه.«زاد المعاد في هدي خير العباد» 5/675
أحدها: قربه منه، والثاني: تذكيره دون قوله، فإنها رجس، والثالث: أنه أتى (بالفاء) و (إن) تنبيها على علة التحريم لتزجر النفوس عنه،«زاد المعاد في هدي خير العباد» 5/675
فإنه لم يكن قد حرم حين نزول هذه الآية من المطاعم إلا هذه الأربعة، والتحريم كان يتجدد شيئا فشيئا، فتحريم الحمر بعد ذلك تحريم مبتدأ لما سكت عنه النص، لا أنه رافع لما أباحه القرآن، ولا مخصص لعمومه، فضلا عن أن يكون ناسخا.«زاد المعاد في هدي خير العباد» 3/304
تفاعلی تفسیر میں کھولیں (مکمل متون)
پچھلی آیت (6:144)اگلی آیت (6:146)