تفسیر سورۃ الأنعام 6:19
﴿قُلْ أَيُّ شَيْءٍ أَكْبَرُ شَهَادَةً قُلِ اللَّهُ شَهِيدٌ بَيْنِي وَبَيْنَكُمْ وَأُوحِيَ إِلَيَّ هَٰذَا الْقُرْآنُ لِأُنذِرَكُم بِهِ وَمَن بَلَغَ أَئِنَّكُمْ لَتَشْهَدُونَ أَنَّ مَعَ اللَّهِ آلِهَةً أُخْرَىٰ قُل لَّا أَشْهَدُ قُلْ إِنَّمَا هُوَ إِلَٰهٌ وَاحِدٌ وَإِنَّنِي بَرِيءٌ مِّمَّا تُشْرِكُونَ﴾
ترجمۂ معانی
آپ کہئے کہ سب سے بڑی چیز گواہی دینے کے لئے کون ہے، آپ کہئے کہ میرے اور تمہارے درمیان اللہ گواه ہے اور میرے پاس یہ قرآن بطور وحی کے بھیجا گیا ہے تاکہ میں اس قرآن کے ذریعے سے تم کو اور جس جس کو یہ قرآن پہنچے ان سب کو ڈراؤں کیا تم سچ مچ یہی گواہی دو گے کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کچھ اور معبود بھی ہیں، آپ کہہ دیجئے کہ میں تو گواہی نہیں دیتا۔ آپ فرما دیجئے کہ بس وه تو ایک ہی معبود ہے اور بےشک میں تمہارے شرک سے بیزار ہوں۔
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi — v1.1.3 · QuranEnc.comدونوں ائمہ کا کلام اصل عربی میں لفظ بلفظ، حوالوں کے ساتھ دیا گیا ہے۔
شیخ الاسلام ابن تیمیہ
فقوله: {قل الله} فيها وجهان: قيل: هو جواب السائل«مجموع الفتاوى» 14/193وقيل: هو مبتدأ وقوله: {شهيد} خبره؛ فأغنى ذلك عن جواب الاستفهام. و " الأول " على قراءة من يقف على قوله {قل الله} و " الثاني " على قراءة من لا يقف وكلاهما صحيح؛ لكن الثاني أحسن وهو أتم.«مجموع الفتاوى» 14/193فكل من بلغه القرآن فقد أنذره به الرسول والإنذار به هو الإخبار بالعذاب لمن قامت عليه الحجة برسالته فلم يؤمن به.«تفسير آيات أشكلت على كثير من العلماء» 1/242امام ابن القیم
المراد بالآية شهادته سبحانه لرسوله بتصديقه على رسالته«طريق الهجرتين وباب السعادتين» 1/338وهذا يقتضي جوابا : لا شيء أكبر شهادة من الله , فالله أكبر شهادة من كل شيء .«تهذيب سنن أبي داود وإيضاح مشكلاته» 1/23