تفسیر سورۃ التوبة 9:69

﴿كَالَّذِينَ مِن قَبْلِكُمْ كَانُوا أَشَدَّ مِنكُمْ قُوَّةً وَأَكْثَرَ أَمْوَالًا وَأَوْلَادًا فَاسْتَمْتَعُوا بِخَلَاقِهِمْ فَاسْتَمْتَعْتُم بِخَلَاقِكُمْ كَمَا اسْتَمْتَعَ الَّذِينَ مِن قَبْلِكُم بِخَلَاقِهِمْ وَخُضْتُمْ كَالَّذِي خَاضُوا أُولَٰئِكَ حَبِطَتْ أَعْمَالُهُمْ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَأُولَٰئِكَ هُمُ الْخَاسِرُونَ﴾

ترجمۂ معانی

مثل ان لوگوں کے جو تم سے پہلے تھے ، تم میں سے وه زیاده قوت والے تھے اور زیاده مال واوﻻد والے تھے پس وه اپنا دینی حصہ برت گئے پھر تم نے بھی اپنا حصہ برت لیا جیسے تم سے پہلے کے لوگ اپنے حصے سے فائده مند ہوئے تھے اور تم نے بھی اسی طرح مذاقانہ بحﺚ کی جیسے کہ انہوں نے کی تھی۔ ان کے اعمال دنیا اور آخرت میں غارت ہوگئے۔ یہی لوگ نقصان پانے والے ہیں۔

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi — v1.1.3 · QuranEnc.com

دونوں ائمہ کا کلام اصل عربی میں لفظ بلفظ، حوالوں کے ساتھ دیا گیا ہے۔

امام ابن القیم

فالاستمتاع بالخلاق -وهو النصيب- هو الشهوة، والخوض هو الكلام بمقتضى الشبهة. فهذان الداءان هما داءا الأولين«الكلام على مسألة السماع» 1/74
فهذا الاستمتاع بالخلاق هو استمتاعهم بنصيبهم من الشهوات ثم قال {وخضتم كالذي خاضوا} وهذا هو الخوض بالباطل في دين الله وهو خوض أهل الشبهات«رسالة ابن القيم إلى احد إخوانه» 1/17
تفاعلی تفسیر میں کھولیں (مکمل متون)
پچھلی آیت (9:67)اگلی آیت (9:70)