تفسیر سورۃ الرعد 13:11

﴿لَهُ مُعَقِّبَاتٌ مِّن بَيْنِ يَدَيْهِ وَمِنْ خَلْفِهِ يَحْفَظُونَهُ مِنْ أَمْرِ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّىٰ يُغَيِّرُوا مَا بِأَنفُسِهِمْ وَإِذَا أَرَادَ اللَّهُ بِقَوْمٍ سُوءًا فَلَا مَرَدَّ لَهُ وَمَا لَهُم مِّن دُونِهِ مِن وَالٍ﴾

ترجمۂ معانی

اس کے پہرے دار انسان کے آگے پیچھے مقرر ہیں، جو اللہ کے حکم سے اس کی نگہبانی کرتے ہیں۔ کسی قوم کی حالت اللہ تعالیٰ نہیں بدلتا جب تک کہ وه خود اسے نہ بدلیں جو ان کے دلوں میں ہے۔ اللہ تعالیٰ جب کسی قوم کی سزا کا اراده کر لیتا ہے تو وه بدﻻ نہیں کرتا اور سوائے اس کے کوئی بھی ان کا کارساز نہیں.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi — v1.1.3 · QuranEnc.com

دونوں ائمہ کا کلام اصل عربی میں لفظ بلفظ، حوالوں کے ساتھ دیا گیا ہے۔

شیخ الاسلام ابن تیمیہ

ذكر الله الحفظة الموكلين ببني آدم الذين يحفظونهم ويكتبون أعمالهم«مجموع الفتاوى» 4/250
وكذلك " إذا " ظرف لما يستقبل من الزمان؛ فقوله: {إذا أراد} و {إن شاء الله} ونحو ذلك يقتضي حصول إرادة مستقبلة ومشيئة مستقبلة.«مجموع الفتاوى» 6/225

امام ابن القیم

فدلالة لفظها أنه لا يغير نعمه التي أنعم بها على عباده حتى يغيروا طاعته بمعصيته،«الكلام على مسألة السماع» 1/271
وإشارتها أنه إذا عاقب قوما وابتلاهم، لم يغير ما بهم من العقوبة والبلاء، حتى يغيروا ما بأنفسهم من المعصية إلى الطاعة،«الكلام على مسألة السماع» 1/271

جو انہوں نے دوسروں سے نقل کیا

العباس عم رسول الله استشهد به «ما نزل بلاء إلا بذنب، ولا رفع إلا بتوبة»«الكلام على مسألة السماع» 1/271
تفاعلی تفسیر میں کھولیں (مکمل متون)
پچھلی آیت (13:7)اگلی آیت (13:12)