تفسیر سورۃ الطلاق 65:2
﴿فَإِذَا بَلَغْنَ أَجَلَهُنَّ فَأَمْسِكُوهُنَّ بِمَعْرُوفٍ أَوْ فَارِقُوهُنَّ بِمَعْرُوفٍ وَأَشْهِدُوا ذَوَيْ عَدْلٍ مِّنكُمْ وَأَقِيمُوا الشَّهَادَةَ لِلَّهِ ذَٰلِكُمْ يُوعَظُ بِهِ مَن كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَمَن يَتَّقِ اللَّهَ يَجْعَل لَّهُ مَخْرَجًا﴾
ترجمۂ معانی
پس جب یہ عورتیں اپنی عدت پوری کرنے کے قریب پہنچ جائیں تو انہیں یا تو قاعده کے مطابق اپنے نکاح میں رہنے دو یا دستور کے مطابق انہیں الگ کر دو اور آپس میں سے دو عادل شخصوں کو گواه کر لو اور اللہ کی رضامندی کے لیے ٹھیک ٹھیک گواہی دو۔ یہی ہے وه جس کی نصیحت اسے کی جاتی ہے جو اللہ پر اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتا ہو اور جو شخص اللہ سے ڈرتا ہے اللہ اس کے لیے چھٹکارے کی شکل نکال دیتا ہے.
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi — v1.1.3 · QuranEnc.comدونوں ائمہ کا کلام اصل عربی میں لفظ بلفظ، حوالوں کے ساتھ دیا گیا ہے۔
شیخ الاسلام ابن تیمیہ
فقد بين فيها أن المتقي يدفع الله عنه المضرة بما يجعله له من المخرج ويجلب له من المنفعة بما ييسره له من الرزق والرزق اسم لكل ما يغتذى به الإنسان؛ وذلك يعم رزق الدنيا ورزق الآخرة.«مجموع الفتاوى» 16/52امام ابن القیم
فالإمساك هنا: الرجعة، والمفارقة: ترك الرجعة«زاد المعاد في هدي خير العباد» 5/292لا إنشاء طلقة ثانية، هذا مما لا خلاف فيه البتة،«زاد المعاد في هدي خير العباد» 5/292جو انہوں نے دوسروں سے نقل کیا
الربيع بن خثيم أقرّه «يجعل له مخرجا من كل ما ضاق على الناس»«مدارج السالكين بين منازل إياك نعبد وإياك نستعين» 1/468أبو العالية أقرّه «مخرجا من كل شدة»«مدارج السالكين بين منازل إياك نعبد وإياك نستعين» 1/468